ابنا: شام کے صدر بشار الاسد نے القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں جو شام پر فوجی حملے کا مطالبہ کر رہے تھے، کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اتوار کے روز اٹلی کے ٹی وی چینل کو انٹرویو میں شامی صدر کا کہنا تھا کہ میں مسلح باغیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میں ہتھیار پھینک دیں تو شام کے تمام شہریوں کی طرح ان سے بھی تمام موضوعات پر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ہم القاعدہ، ان کے حامیوں اور ان سے ہم پیمان گروہوں سے مذاکرات نہیں کرسکتے۔ شام کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے گروہوں سے ہرگز مذاکرات نہیں کرینگے جو شام میں بیرونی مداخلت اور فوجی جارحیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کا احترام کرتے ہیں اور کیمیائی ہتھیار تلف کر دیں گے۔ شامی صدر نے کہا کہ ہم اپنے وعدے کے پابند ہیں اور تاریخ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جب بھی ہم نے کسی معاہدے پر دستخط کئے ہیں تو پھر اس کی پوری طرح پابندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے شامی حکومت کی منظوری سے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کا مسودہ پیش کیا، اس لئے اسکی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
.....
/169